8 اکتوبر 2026 - 13:39
آل سعود کا اثاثہ، القاعدہ کا سابق سرغنہ، سعودیوں کی مدد کرے گا کیا؟ + نکتہ

روئٹرز نیوز ایجنسی نے بدھ کے روز رپورٹ دی ہے کہ شام پر حکمران باغی ٹولے کا سرغنہ یمن کے انصاراللہ کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کو فوجی مدد دینے پر غور کر رہا ہے۔ / القاعدہ کا دہشت گرد ٹولہ پہلے ہی یمن میں موجود اور اپنے سعودی، امریکی اور صہیونی آقاؤں کی خدمت اور صنعا کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || روئٹرز نیوز ایجنسی کے مطابق، ایک ذمہ دار امریکی اہلکار اور ایک شامی فوجی اہلکار نے کہا ہے کہ دمشق پر حکمران باغی اپنے اہم اتحادی سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

ذرائع نے روئٹرز کو مزید بتایا کہ زیر غور آپشنز میں سعودی سلطنت کو حملوں سے بچانے کے لئے دفاعی مدد یا انصاراللہ سے لڑنے میں سعودی کے اجرتی یمنی ملیشیاؤں کی مدد کے لئے حملہ آور فوج بھیجنا شامل ہیں۔

امریکی اہلکار نے وضاحت کی کہ سعودی عرب نے شامی باغیوں سے درخواست کی ہے کہ وہ انصاراللہ سے لڑنے کے لئے فوجی دستے بھیجیں۔

سعودی عرب نے حالیہ ہفتوں میں ـ امریکہ سے لے کر یورپ اور مغربی ایشیا تک، ـ دنیا بھر کے مختلف ممالک سے، انصاراللہ کے خلاف دفاعی اور جارحانہ حمایت کے لئے مدد مانگی ہے، ایسی درخواست جسے مختلف ممالک بشمول امریکہ نے مسترد کر دیا ہے۔

شامی باغیوں کے سرغنے ابومحمد الجولانی نے منگل کے روز ریاض کا اعلانیہ دورہ کیا اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔

امریکی اہلکار نے کہا کہ اس ملاقات میں فریقین نے سعودیوں کو شام کی ممکنہ فوجی مدد کے بارے میں بات چیت کی ہے۔

یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شامی باغیوں نے اب تک صہیونی رجیم کی جارحیتوں کو ٹھَنْڈے پیٹوں برداشت کیا ہے؛ اور اسرائیل کے ہاتھوں مقبوضہ علاقے واپس لینے کے لئے کسی اقدام کے لئے تیار نہیں ہیں۔

اس سے قبل شامی باغیوں نے لبنان میں حزب اللہ سے لڑنے میں مدد کے لئے امریکہ کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

نکتہ:

واضح رہے کہ القاعدہ قدیم الایام سے آل سعود اور اس کے مغربی آقاؤں کا اثاثہ سمجھا جاتا ہے جس نے افغانستان پر امریکی قبضے کے لئے تمہیدات فراہم کی تھیں اور یہ دہشت گرد ٹولہ عرصہ دراز سے یمن میں سرگرم اور اپنے سعودی، امریکی اور صہیونی آقاؤں کی خدمت اور صنعا کے خلاف جنگ میں مصروف اور سعودیہ و امارات کے دیگر اجرتیوں کی طرح انصار اللہ کے پرعزم مجاہدین کے مقابلے میں مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جو بھی فوج یا گروپ آج تک یمن میں داخل ہوئی ہے اسے بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے اور اس کی افرادی قوت مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے اور یہاں تک کہا جاتا ہے کہ "جو بھی فوج یا گروپ رسوا اور شرمسار ہونے کا مشتاق ہو اسے یمن کی سرزمین میں قدم رکھنا چاہئے!"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha